تازہ ترین

بنگلادیش میں پُرتشدد انتخابات؛ اپوزیشن کا بائیکاٹ کا اعلان

ڈھاکا: بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے حق رائے دہی کا سلسلہ پُرتشدد جھڑپوں اور ہنگامہ آرائی کے دوران جاری رہنے کے بعد اختتام پذید ہوگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیش میں عام انتخابات میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بنگلادیش نیشنل پارٹی (بی این پی ) نے حکومت پر دھاندلی، کریک ڈاؤن آپریشن اور انتخابات سے باہر رکھنے کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

بنگلادیش نیشنل پارٹی کی سربراہ سمیت سرکردہ رہنما کئی برسوں سے جیلوں میں قید ہیں جب کہ اپوزیشن جماعت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ حکومت ان کے امیدواروں اور مقامی رہنماؤں کو کارکنان سمیت گرفتار کر رہی ہے۔

چٹاگانگ میں پولیس اور اپوزیشن جماعت کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ سڑکوں پر ٹائر نذر آتش کیے گئے اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ کئی علاقوں میں کرفیو کا سماں ہے۔ کئی اسکولوں اور پولنگ بوتھز کو جلا دیا گیا۔

صبح 8 بجے سے شروع ہونے والی پولنگ کا عمل شام 4 بجے تک جاری رہا جب کہ نتائج کااعلان کل صبح تک کیا جائے گا۔ اپوزیشن کے بائیکاٹ کی وجہ سے شیخ حسینہ واجد کے اس بار بھی وزیراعظم بننے کے امکانات یقینی ہوگئے۔

وزیر اعظم حسینہ واجد نے دارالحکومت ڈھاکا میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد بنگلادیش کے بانی مجیب الرحمان کی صاحبزادی کی ہیں جو فوجی بغاوت میں اہل خانہ سمیت مارے گئے تھے اور صرف حسینہ واجد بچ گئی تھیں اور بعد میں سیاست میں متحرک ہوئیں۔

حسینہ واجد 1981 میں عوامی لیگ کی صدر بنیں۔ 1986 سے 1988، پھر 1991 سے 1996 اور 2001 سے 2006 تک قائد حزب اختلاف رہیں۔ اس دوران ملک پر حکومت خالدہ ضیأ کی رہی جو سابق وزیراعظم ضیا الرحمان کی اہلیہ ہیں۔

شیخ حسینہ واجد 1996 سے 2001 تک اور 2009ء سے تاحال وزیر اعظم ہیں اور جس دوران وہ وزیراعظم رہیں سابق وزیر وزیراعظم خالدہ ضیا اپوزیشن لیڈر رہیں اور اب بھی جیل میں ہیں۔

حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمان کو فوجی بغاوت میں اہل خانہ کے ساتھ قتل کرنے والی باغیوں فوجیوں کی قیادت کرنے والے جنرل مشتاق احمد ملک کے صدر بن گئے تھے جنھوں نے خالدہ ضیا کے شوہر جرنیل ضیا الرحمان کو آرمی چیف بنادیا تھا۔

بعد ازاں صدر مشتاق احمد کو ایک اور فوجی بغاوت میں سبکدوش کرکے بریگیڈیر خالد مشرف نے جنرل ضیاالرحمان کو حراست میں لے کر خود میجر جرنل بن گئے۔

کچھ ہی عرصے بعد ایک اور فوجی بغاوت ہوئی۔ ریٹائرڈ لیفٹننٹ کرنل ابو طاہر کی قیادت میں ہونے والی اس فوجی بغاوت میں میجر جرنل خالد مشرف کو قتل کر دیا گیا۔ بغاوت کرنے والے فوجیوں نے ضیاالرحمان کو رہا کرکے دوبارہ آرمی چیف بنادیا۔

ضیاالرحمان نے بغاوت کرنے والے ریٹائرڈ لیفٹننٹ کرنل ابو طاہر کو 1976 میں اس خدشے کے پیش نظر قتل کروادیا کہ وہ دوبارہ بغاوت کرسکتے ہیں۔ ضیاالرحمان خود مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔

تاہم 30 مئی 1981 کو چند فوجی افسران نے ضیا الرحمان کو 6 باڈی گارڈز سمیت قتل کر دیا جس کے بعد شیخ مجیب الرحمان کی زندہ بچ جانے والی اکلوتی اولاد حسینہ واجد بنگلادیش آئیں اور ملکی سیاست میں حصہ لیا۔

تب سے اب تک بنگلادیش کی سیاست شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی شیخ حسینہ واجد اور جنرل ضیاالرحمان کی بیوہ ضیا الرحمان کے گرد گھوم رہی ہے۔ کبھی ایک وزیراعظم ہوتی ہیں تو دوسری اپوزیشن لیڈر اور کبھی الٹ ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس سیاسی کشمکش اور حکمرانی کی جنگ کو ’’بیگمات (یعنی دو خواتین) کی جنگ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔