تازہ ترین

ڈپریشن نے خودکشی کرنے پر مجبور کردیا تھا، آئمہ بیگ

کراچی – پاکستان کی معروف گلوکارہ آئمہ بیگ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اس قدر ڈپریشن کا شکار ہوگئی تھیں کہ ایک بار خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔

حال ہی میں آئمہ بیگ نے ‘فیوشیا میگزین’ کو انٹرویو دیا تھا جس میں اُنہوں نے ڈپریشن، آرتھرائٹس کی بیماری میں مبتلا رہنے اور خود پر متعدد سنگین الزامات لگنے سے متعلق کُھل کر بات کی۔

آئمہ بیگ نے اپنی والد کے انتقال سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘میری والدہ کا انتقال کینسر سے ہوا، ہمیں اُس وقت کینسر کی تشخیص کا علم ہوا جب وہ تیسرے درجے تک پہنچ چکا تھا’۔

گلوکارہ نے کہا کہ ‘میری والدہ ہر بات دل میں رکھتی تھیں جس کی وجہ سے اُنہیں ڈپریشن ہوا اور ڈپریشن کی وجہ سے ہی والدہ کو کینسر ہوا’۔

دورانِ انٹرویو آئمہ بیگ نے اپنے ڈپریشن پر کُھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے یہاں لوگ ڈپریشن کو بیماری ہی نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس پر بات کرتے ہیں جبکہ اصل میں ڈپریشن ہی تمام بیماریوں کی جڑ ہے’۔

اُنہوں نے کہا کہ ‘میں کم عُمری میں ہی ‘آرتھرائٹس’ کی بیماری کا شکار ہوگئی تھی، جب میں نے ڈاکٹر سے وجہ پوچھی تو ڈاکٹر نے بتایا کہ میری جینز میں یہ بیماری تھی اور والدہ کے انتقال کے بعد ڈپریشن کی وجہ سے یہ بیماری اُبھر کر سامنے آئی’۔

آئمہ بیگ نے کہا کہ ‘جب میری منگنی ٹوٹی اور مجھ پر برطانوی خاتون ماڈل نے اپنے سابق بوائے فرینڈ سے تعلقات کے الزامات لگائے تو اُس وقت میں اور میری فیملی صدمے میں چلی گئی تھی’۔

گلوکارہ نے کہا کہ ‘ان سنگین الزامات کے بعد تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے مجھے شدید ڈپریشن ہوا اور اسی دوران میں نے ایک بار خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی تھی کیونکہ میں زندہ نہیں رہنا چاہتی تھی’۔

اُنہوں نے کہا کہ ‘اس مشکل ترین وقت میں والد نے عُمرے پر جانے کا کہا، عُمرے کی ادائیگی کے دوران احساس ہوا کہ بےشک لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں لیکن میرا رب مجھ سے محبت کرتا ہے’۔

آئمہ بیگ نے مزید کہا کہ ‘عمرہ کرنے کے بعد سکون ملا اور ڈپریشن بھی ختم ہوا’۔