تازہ ترین

چرنوبل کے اطراف موجود کیچوں میں ’نئی سپرپاور‘ کا انکشاف

نیو یارک – ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ شمالی یوکرین (سابقہ سویت یونین) میں واقع چرنوبل پاور پلانٹ کے اطراف میں موجود کیچووں میں نئی سپر پاور کا انکشاف ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کو تابکار شعاعوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

1986 میں چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے بعد سے اس کے اطراف کا علاقہ دنیا کا سب سے تابکار خطہ بن گیا ہے۔

تحقیق کی سربراہ مصنفہ ڈاکٹر صوفیا ٹِنٹر کا کہنا تھا کہ چرنوبل ناقابلِ فہم پیمانے پر ہونے والی تباہی تھی لیکن اب تک مقامی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو اچھے طریقے سے نہیں سمجھا جا سکا ہے۔

پاور پلانٹ میں ہونے والے دھماکے کے بعد علاقے سے انسانوں کا انخلاء تو کرادیا گیا تھا لیکن بڑی مقدار میں تابکار شعاعوں کے باوجود متعدد پودے اور جانور اس خطے میں موجود رہے اور تقریباً چار دہائیوں بعد آج بھی موجود ہیں۔

حالیہ برسوں میں محققین کو معلوم ہوا ہے کہ چرنوبل ایکسکلوژن زون (شمالی یوکرین میں پاور پلانٹ کے 29.93 کلومیٹر ریڈیس کا علاقہ) کے علاقے میں رہنے والے جانور جسمانی اور جینیاتی اعتبار سے اپنے جیسے دنیا کے دیگر جانوروں سے مختلف ہیں اور یہ چیز ان کے ڈی این اے پر پڑنے والی دائمی شعاعوں کے اثرات کے متعلق سوالات اٹھاتی ہے۔

اس نئی تحقیق میں محققین نے چرنوبل جا کر نیمیٹوڈز کا مطالعہ کیا۔ نیمیٹوڈز سادہ جینوم اور فوری افزائش نسل کرنے والے چھوٹے کیچوے ہوتے ہیں، جو ان کو بنیادی حیاتیاتی مظہر سمجھنے کے لیے کافی کارآمد بناتا ہے۔

محققین یہ بات جان کر حیران ہوئے کہ چرنوبل سے لائے گئے کیچوں کے جینوم میں شعاعوں کے سبب کسی قسم کے نقصان کی کوئی تشخیص نہیں ہوسکی۔