تازہ ترین

جنگلات کے کٹاؤ کے سبب پارے کی آلودگی میں اضافے کا انکشاف

میساچوسیٹس – میساچوسیٹس اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق عالمی سطح پر جنگلات کا کٹاؤ ہر سال انسانی سرگرمیوں کے سبب ماحول میں 10 فی صد تک پارے کے اخراج کا سبب بن رہا ہے۔

ایمازون سے لے کر سب صحارا افریقا کے جنگلات فضاء سے زہریلے مواد کو صاف کرنے کا کام کرتے ہیں۔ تاہم، اگر موجودہ رفتار یا اس سے تیزی سے جنگلات کاٹے جاتے رہے تو ایک اندازے کے مطابق پارے کے اخراج میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر ایری فیئن برگ کا کہنا تھا کہ پارے کی آلودگی کے اہم ذرائع کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے اور ایسا بالخصوص ٹروپیکل خطوں میں ہو رہا ہے۔

محققین کے ماڈل نے تحقیق میں دِکھایا کہ ایمازون کا برساتی جنگل پارے کو جذب کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے ایمازون میں درختوں کے کٹاؤں میں کمی مرکری کی آلودگی میں واضح کمی لا سکتی ہے۔

ٹیم کی جانب سے پیش کیے جانے والے تخمینے کے مطابق عالمی سطح پر دوبارہ درخت لگائے جانے کی صورت میں سالانہ اخراج میں 5 فی صد تک کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔

گزشتہ دہائیوں میں سائنس دانوں نے جنگلات کے کٹاؤ کا کاربن ڈائی آکسائیڈ کے عالمی اخراج کے ذریعے کے طور پر مطالعہ کیا ہے۔ لیکن اس حوالے سے پارے کو برابر کی توجہ نہیں دی گئی ہے جس کی جزوی وجہ عالمی مرکری سائیکل کا حال ہی میں بہتر اندز میں تعین کیا جانا ہے۔

پودوں کے پتے ماحول سے پارے کو بالکل اس ہی طرح کشید کرتے ہیں جس طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کرتے ہیں۔ لیکن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برعکس پارہ پودوں کے لیے کوئی بنیادی حیاتی فعل انجام نہیں دیتا۔

پارہ جب تک جنگل کی زمین پر گرنے تک پتے پر ہی جما رہتا ہے۔ زمین پر گرنے کے بعد مٹی اس کو جذب کر لیتی ہے۔ سائنس دانوں کو یہ تشویش لاحق ہے کہ پانی کے ذخائر تک پہنچ کر پارہ غذائی چین میں زہر پھیلا سکتا ہے۔

ایری فیئن برگ نے کہا کہ سمندر کے مقابلے میں پارہ مٹی میں زیادہ بہتر طریقے سے ذخیرہ ہو سکتا ہے۔ اس مد میں جنگلات پارے کو کشید کرتے ہوئے ماحول کے لیے بڑا کام کر رہے ہیں۔