تازہ ترین

لاگت کی جلد وصولی کے لیے سولر پینل کے متعلق نیا خیال متعارف

لزبن – محققین نے قابلِ تجدید توانائی کا ایک نیا خیال متعارف کرایا ہے جو سولر پینلز پر آئی لاگت کی وصولی کے دورانیے کو پانچ سال سے کم عرصے تک محدود کر سکتا ہے۔

پرتگال میں قائم یونیورسٹی آف لسبوا اور ملٹری اکیڈمی سے تعلق رکھنے والے محققین کی ٹیم نے ایگری وولٹایک (ایگری-پی وی) نامی سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے سائے میں اگنے والی فصلوں کے ہمراہ ایسے سولر فارم بنائے ہیں جو قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع پر منتقلی کی رفتار میں بہتری لا سکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ایگری- پی وی کے سبب زراعت اور توانائی کی پیداوار میں ہونے والا ملاپ زمین کی اہمیت میں تنہا سولر فارم یا زرعی پیداوار سے زیادہ اضافہ کردے گا۔
اس خیال کو حالیہ سالوں میں سولر پینلز کے گرتی ہوئی قیمتوں کے سبب تقویت ملی ہے۔ اس کے علاوہ آبادی میں اضافہ بھی ایک اہم وجہ ہے جس کے لیے غذا اور توانائی کی پیداوار کے حوالے سے نئے حل کی تلاش ضروری ہے۔

محققین کے مطابق یہ منصوبے سبز توانائی میں اضافے اور ناقابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کے استعمال میں کمی کے ساتھ فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو بھی کم کریں گے۔

محققین نے بتایا کہ یہ خیال منصوبوں پر آئی لاگت کی وصولی کا دورانیہ چار سے پانچ سال کے درمیان تک لا سکتا ہے۔

جرنل انرجی آف سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ میں شائع ہونے والے مقالے میں بتایا گیا کہ ایگری-پی وی خیال کا شہد کی مکھیوں کے فارم، گرین ہاؤس، مویشی پالنے اور باغبانی جیسی متعدد اقسام کی ذراعت پر اطلاق کیا جاسکتا ہے۔