تازہ ترین

خلا سے سیارچے کا نمونہ زمین پر پر لانے کا پہلا مشن مکمل

ہیوسٹن – امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلا سے سیارچے کا نمونہ واپس لانے کا پہلا مشن مکمل کرلیا۔ بِینو نامی سیارچے سے نمونہ حاصل کر کے سائنس کیپسول 1 ارب 93 کروڑ کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد زمین پہنچا۔

سائنس کیپسول کو اتوار کے روز OSIRIS-REx اسپیس کرافٹ سے اس وقت چھوڑا گیا جب اسپیس کرافٹ زمین کے قریب سے 43 ہزار 452 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزر رہا تھا۔

اس سائنس کیپسول کی رفتار کو پیراشوٹ کی مدد سے کم کیا گیا اور کیپسول نے امریکی محکمہ دفار کے یوٹاہ ٹیسٹ اینڈ ٹریننگ رینج پر ایسٹرن وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 52 منٹ لینڈ کیا۔

بعد ازاں کیپسول کو زمین کے ماحول سے بچانے کے لیے ہیلی کاپٹر کی مدد سے ہیوسٹن میں قائم جانسن اسپیس سینٹر منتقل کردیا گیا۔

2016ء میں لانچ ہونے والے OSIRIS-REx مشن نے سیکڑوں گرام سیارے کا مواد جمع کیا ہے جو سائنس دانوں کو ہمارے نظامِ شمسی کے ابتدائی وقت کے متعلق سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

OSIRIS-REx کی پروگرام ایگزیکیوٹِیو میلیسا مورس کے مطابق ناسا نظامِ شمسی میں موجود سیارچوں کی بڑی تعداد کی تحقیق کے لیے اس مشن جیسے چھوٹے چھوٹے مشنز پر کام کرتا ہے جو نظامِ شمسی کے بننے اور اس کے ارتقاء کے متعلق اشارے دے سکتے ہیں۔