تازہ ترین

سرحد پار سے دہشتگردی اب برداشت نہیں کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد – وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی اب برداشت نہیں کریں گے اور پاکستان کی سرحدیں دہشت گردی کے خلاف ریڈلائن ہیں۔

کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قوم نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کی ضرورت ہے کیونکہ قرضوں کے بغیر ہمارا گزارا نہیں، معیشت کو پاؤں پر کھڑا کر کے ملک کو قرضوں سے نجات دلانی ہے، کوشش کریں گے کم سے کم قرض لیں، پچھلی حکومت میں ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ملک کے لیے اپنا سیاسی اثاثہ بھی داؤ پر لگا دیا، ہمارے 2400ارب کے محصولات اس وقت یا تو ٹریبیونلز کے پاس ہیں یا عدالتوں میں ان کے مقدمات زیر سماعت ہیں، چیف جسٹس سے درخواست ہے تمام ہائیکورٹس کو ہدایت دیں کہ تمام کیسز پر میرٹ پر فیصلہ دیں، نوٹس لینے پر چیف جسٹس کا شکر گزار ہوں گا۔

کفایت شعاری پالیسی سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے شاہانہ اخراجات میں کمی انتہائی ضروری ہے، کئی ایسے محکمے ہیں جن کی ضرورت نہیں اور جو محکمے رہ گئے اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو حوالے کریں۔

بجلی چوری سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سالانہ چار سے 500 ارب کی بجلی چوری ہوتی ہے، اب بجلی اور گیس کی چوری برداشت نہیں کریں گے، بجلی اور گیس کی چوری کے مکمل خاتمے کے لیے پلان لانا ہوگا۔

قبل ازیں، کابینہ اجلاس میں وزیراعظم سمیت اراکین نے تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا۔

خصوصی کمیٹی کا پہلا اجلاس:

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قانونی اور عدالتی اصلاحات کے لیے خصوصی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی ہوا۔ کمیٹی میں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، سپریم کورٹ بار کے صدر شہزاد شوکت، پاکستان بار کونسل کے نمائندے احسن بھون، سابق وزیر قانون زاہد حامد، سینیئر قانون دان شاہد حامد اور اٹارنی جنرل منصور اعوان شریک ہوئے۔

وزیراعظم نے کمیٹی کو عام آدمی کی سہولت کے لیے سِول اور فوجداری قوانین میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو عدالتی اصلاحات کے لیے آئینی اور قانونی ترامیم کا پیکج تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ خواہش ہے کہ لوگوں کو انصاف جلد اور بآسانی فراہم ہو سکے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹیکس کے معاملات کو عوام بالخصوص کاروباری طبقے کے لیے آسان بنایا جائے۔ انہوں نے کمیٹی کو ٹیکس وصولیوں کو مؤثر بنانے کے لیے قانونی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں 2400 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس وصولیوں کا عدالتوں اور ٹریبونلز کے احکام امتناعی کی وجہ سے زیر التواء ہونا تشویشناک ہے۔ کمیٹی کی فراہم کردہ رپورٹ اتحادیوں سے مشاورت کے بعد عمل درآمد کے لیے متعلقہ وزارتوں کو بھجوائی جائے۔ وزیراعظم نے مالی اور ٹیکس معاملات پر 2 ہفتوں میں عبوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔