تازہ ترین

حکومت بنا کر اٹھارہویں ترمیم پر عملدرآمد کروں گا، بلاول بھٹو

چترال – پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پرانے سیاستدان دعوے کر رہے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم ختم کریں گے، میں حکومت بناؤں گا اور اٹھارہویں ترمیم پر عملدرآمد کروں گا۔

چترال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پرانے سیاستدان اور کتنا کام کر سکتے ہیں؟، پرانے سیاستدانوں کے فیصلے آج کی سوچ کے ہوتے ہیں، پرانے سیاستدان کل کا نہیں سوچتے۔

انہوں نے کہا کہ فروری کو الیکشن ہونے جا رہے ہیں، جب بھی پی پی کی حکومت بنی تو پسماندہ علاقوں کی حکومت بنی، پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو وہ ٹک ٹاک کی حکومت بنی، ن لیگ کی حکومت بنتی ہے تو وہ اشرافیہ کی حکومت ہوتی ہے، پی پی حکومت غریبوں کی حکومت ہوتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ ہماری پرانے سیاستدانوں سے جان چھڑوائی جائے، میں اپنے بزرگوں کا احترام کرتا ہوں، ہم پی ٹی آئی کی طرح نہیں کہ گالی دینا شروع کر دیں، یہ مطالبہ میرا نہیں ملک کے نوجوانوں کا مطالبہ ہے، میں پرانے سیاستدانوں سے مطالبہ کرتا آ رہا ہوں کہ وہ سیاست چھوڑ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں بہت مسائل ہیں، غربت، مہنگائی اور بیروزگاری تاریخی سطح پر ہے اور ان مسائل کا حل پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور میں موجود ہے، ہم نے ہر دور میں مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کا مقابلہ کیا ہے۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ اتحادی ملک کو مسائل سے نکالنے کے بجائے ذاتی دشمنی پر توجہ دے رہے تھے، ہم نے ملک کو معاشی، سیاسی اور خارجی سطح پر بحران سے نکالنا تھا، ہم نے پی ڈی ایم حکومت کا 18 ماہ ساتھ دیا، ان کا ارادہ یہ ہے کہ حکومت کے بعد اپنا حساب لیں، ان کا ارادہ ہے حکومت کے بعد انتقامی کارروائی کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کام کرنا چاہیں تو بہت کام کرسکتے ہیں، جس سمت پر ملک چل رہا ہے، مسائل میں کمی نہیں اضافہ ہونے جا رہا ہے، جس طرح پرانے سیاستدان سیاست کر رہے ہیں مسائل میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ اگر میں تھر کے ریگستان میں دل کے علاج کیلئے مفت ہسپتال بناسکتا ہوں تو پھر میں چترال کے پہاڑوں میں بھی دل کے علاج کیلئے مفت ہسپتال بناسکتا ہوں، اقتدار میں آنے کے بعد آپ کا دیرینہ مطالبہ حل کریں گے، اندرون سڑکوں کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ منسلک سڑک بنائی جائے گی جو افغانستان سے ہوتے ہوئے سینٹرل ایشیا تک کا راستہ ہموار کرے گی۔