تازہ ترین

نواز شریف کی فوری طور پر وطن واپسی کی راہ ہموار ہونی چاہیے، نہال ہاشمی

اسلام آباد (سن نیوز)مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما نہال ہاشمی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا معاشی استحکام ملک کے سیاسی استحکام سے منسلک ہے جس کے لیے قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف کی فوری طور پر وطن واپسی کی راہ ہموار ہونی چاہیے۔سینئر رہنما نہال ہاشمی نے گزشتہ روز لندن میں میاں نواز شریف سے طویل ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم میاں نواز شریف کا دور یاد کر رہی ہے، جب ملک میں معاشی استحکام تھا، روپیہ مستحکم تھا اور معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی جس کے بعد میاں نواز شریف کی حکومت کو ایک سازش کے تحت ختم کیا گیا اور پھر جب سے ملک معاشی و سیاسی زوال کی جانب گامزن ہے۔نہال ہاشمی نے کہا اگر تحریک انصاف کی حکومت مزید چند دن بھی اقتدار میں رہتی تو پاکستان ڈیفالٹ کرجاتا، عمران خان نے جس طرح آئی ایم ایف سے پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اس سے ملک کی معیشت کا بیڑہ غرق ہوگیا جبکہ وعدہ خلافی احسان فراموشی کی یہ عادت عمران خان میں بہت پرانی ہے جس کا نظارہ آج بھی قوم دیکھ رہی ہے کہ جس طاقت کے احسانات سے عمران خان اقتدار میں پہنچے آج اسی طاقت کو سرعام برا بھلا کہہ رہے ہیں۔نہال ہاشمی نے کہا کہ آج ملکی معیشت اسحٰق ڈار جیسے وزیر خزانہ کی راہ تک رہی ہے کیونکہ اسحٰق ڈار نے اپنی معاشی جادوگری سے پاکستان کی معیشت کو دنیا کی بیس بہترین معیشتوں میں لاکھڑا کیا تھا، اسحٰق ڈار کے زمانے میں پاکستانی بانڈز امریکا اور جاپان جیسے ممالک کے بینکوں نے فروخت کرنا شروع کردیئے تھے، انہی کی بدولت پاکستان میں سی پیک جیسے تاریخی منصوبے شروع ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پہلی دفعہ بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہوا، پاکستان میں ٹیکس وصولی میں ریکارڈ اضافہ بھی اسحٰق ڈار کی شاندار منصوبہ بندی کا مرہونِ منت ہے۔نہال ہاشمی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف جس طرح ملک چلا رہے ہیں ان کو شاباش ہے ورنہ کوئی اور سیاستدان ان حالات میں ملک کی معیشت سنبھالنے کی ہمت نہ کرتا۔ایک سوال کے جواب میں نہال ہاشمی نے کہا کہ ن لیگ نے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اپنی سیاسی ساخت مشکل میں ڈال کر سخت فیصلے کیے ہیں اور اب جب تک ان فیصلوں کے معاشی ثمرات عوام کو نہیں مل جاتے اس وقت تک انتخابات میں جانا دانشمندی نہیں ہوگی لہٰذا ن لیگ کی قیادت میں اتحادی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور الیکشن اب اگلے سال کے آخر میں ہی منعقد ہوں گے۔