تازہ ترین

پرانے سیاست دانوں نے اپنی ضد سے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے، بلاول بھٹوزرداری

لاڑکانہ – پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حریف سیاست دانوں کا نام لیے بغیر ان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بزرگ اور پرانے سیاست دانوں نے اپنی ضد اور انا کی وجہ سے پاکستان کی جمہوریت، معیشت اور وفاق کو نقصان پہنچایا ہے۔

لاڑکانہ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو میونسپل اسٹیڈیم میں انتخابی جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ آج میں پورے ملک کا دورہ اور مہم چلانے کے بعد اپنے گھر واپس آیا ہوں، لاڑکانہ کے عوام کا شکر گزار ہوں، عوام نے جو وفاداری میرے اور میرے خاندان اور میری جماعت کے ساتھ دکھائی ہے اس سے دنیا کی تاریخ رقم ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ کے عوام جب وزیراعظم بناتے ہیں تو پورے ملک کی ترقی ہوتی ہے، ملک ایٹمی پاور بن جاتا ہے اور پوری امت مسلمہ کی قیادت کرتا ہے، پوری دنیا بات مانتی ہے کیونکہ انہیں علم ہوتا ہے کہ یہ عوام کا وزیراعظم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے عرصے سے ملک میں لاڑکانہ سے وزیراعظم نہیں بنا، اب لاڑکانہ اور لاڑکانہ کے عوام کی باری ہے، انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتیں دیکھیں وہ ماضی کا حصہ بن گئی ہیں اور اپنی آخری اننگز کھیل رہی ہیں، ہم نے ان سب کو دیکھا اور بھگتا ہے، وزیراعظم بننے سے کچھ اور کہتے ہیں اور وزیراعظم بننے کے بعد کچھ اور کرتےہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پرانے سیاست دان جو آج تک سیاست میں ہیں وہ نفرت اور تقسیم کے علاوہ کچھ نہیں جانتے، یہ اس ملک کو اپنی نفرت کی سیاست کی وجہ سے خطرے میں ڈال رہے ہیں، ان کی سیاست سیاست نہیں رہی، انہوں نے سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کردیا ہے، سیاست کو گالی بنا دیا ہے اور پورا ملک مایوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا یہی ہماری قسمت میں ہے کہ ہم نے انھی شکلوں کو بار بار دیکھنا ہے، ہماری معیشت کو نقصان ہوا تو ان بزرگ اور پرانے سیاست دانوں کی انا اور ضد کی وجہ سے ہوا ہے، انہوں نے اپنی ذاتی دشمنی کی وجہ سے پاکستان کی معیشت، وفاق، جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ چوتھی بار وزیراعظم اس کرسی پر بیٹھنا چاہتا ہے، ان کی ضد کی وجہ سے پاکستان کی جمہوریت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، جس کے لیے عوام نے خون کی قربانی دی ہے، ہماری معیشت کے ساتھ کھیلنے والوں کو احساس، فکر اور اندازہ نہیں ہے کہ عوام کتنی مشکل اور تکلیف میں ہے، ان کی ذاتی دشمنی کی وجہ سے ہمیں معاشی بحران میں دھکیلا گیا ہے، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت تاریخی سطح پر آگئی ہے لیکن ان کو فکر نہیں ہے، فکر ہے تو کرسی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے نہ اپنا منشور عوام کو دیا ہے، ووٹ کے لیے نہ تو عوام کے پاس گئے اور عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمیں اگر اس مشکل سے نکلنا ہے اور چاہتے ہیں کہ ملک میں استحکام ہو جس سے معاشی استحکام ہو اور اس سے عوام کا معاشی فائدہ ہو اور مسائل کا حل ہوتو نہ مسلم لیگ(ن) اور نہ پی ٹی آئی یہ کام کرسکتی ہے، صرف اور صرف پیپلزپارٹی یہ کام کرسکتی ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ میں آج کہہ رہا ہوں کہ اگر ان میں سے کوئی جیت جاتا ہے تو اگلے دن سے دھرنے کی سیاست شروع کرنا ہے، پھر سے سیاسی انتقام لینا ہے، عوام کی خدمت کے بجائے سیاسی پکڑ دھکڑ کرنا ہے، ہم نے یہ فلم 3 دفعہ دیکھی ہے اور جانتے ہیں کہ چوتھی دفعہ کیا ہوگا، پہلی دفعہ بنا تو انہی سے لڑا جنہوں نے بنایا تھا، دوسری دفعہ امیرالمومنین بننے کا خواب دیکھ رہا تھا، دوسری دفعہ اس کو پھر بنایا گیا تو انہی لوگوں سے لڑ پڑا جنہوں نے انہیں وزیراعظم بنایا، جس سے نقصان ملک، عوام، جمہوریت اور معیشت کا نقصان ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ تیسری دفعہ ان کو آر او الیکشن کے ذریعے عوام پر مسلط کیا گیا، پھر سے وہی کام کیا، انہی لوگوں سے پنگا لیا، جنہوں نے اس کو بنایا، نقصان جمہوریت، پاکستان، معیشت اور عوام کا ہوا، اب چوتھی بار اس کو مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ چوتھی 8 فروری نہیں بلکہ ابھی سے تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ چوتھی بار وزیراعظم بن چکا ہے، انہوں نے کرنا وہی ہے، 6 مہینے کے اندر وہی رونا دھونا شروع کرنا ہے کہ مجھے کیوں نکالا، مجھے بلایا، آپ ان کو بھرپور جواب دیں اور شیر کا راستہ روکنا ہے۔

بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ ہمیں حکومت میں آکر دو کام کرنے ہیں، ایک نفرت اور تقسیم کی سیاست کو ختم کرنا ہے، پاکستان کو جوڑنا ہے تقسیم نہیں کرنا ہے، مسلم لیگ اپنی طاقت کے نشے میں ملک کو تقسیم کر رہی ہے، باقی سیاسی جماعتوں میں سے کوئی مذہب، کوئی فرقہ واریت اور کوئی لسانیت کی بنیاد پر سیاست کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرا کام پاکستان کے عوام کو ریلیف دینا ہے اور اس کا طریقہ عوامی معاشی معاہدے میں بتادیا ہے، مشکل معاشی فیصلے ہوں گے اور 17 وزارتوں کو صوبوں میں منتقل کریں گے، جس کے لیے سالانہ 300 ارب روپے ضائع ہوجاتے ہیں۔