تازہ ترین

سقوطِ ڈھاکہ کے 52 برس اور سانحہ آرمی پبلک سکول کے 9 برس مکمل، زخم آج بھی تازہ

کراچی – ملک بھر میں آج یوم سقوطِ ڈھاکا منایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے دولخت ہونے کی تلخ یادیں قوم کے دل میں آج بھی تازہ ہیں۔ دوسری طرف سانحہ آرمی پبلک سکول کی 9 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے، سال 2014 کو آج ہی کے دن سفاک دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا۔

یوم سقوط ڈھاکا (16 دسمبر) کی مناسبت سے کراچی سمیت ملک بھر میں سیاسی ، سماجی اور دیگر تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف تقاریب، سیمینار، پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں ملک کے دولخت ہونے کی وجوہات، اُس وقت پیش آنے والے واقعات اور اس کے بعد کی صورت حال پر مقررین تقاریر کریں گے۔

سانحہ مشرقی پاکستان (سقوط ڈھاکا) 16دسمبر 1971ء کو پیش آیا تھا۔1971ء ہی میں 26 مارچ کو بھارت کی ناپاک سازشوں کے نتیجے میں جنگ کا آغاز ہوا اور 16 دسمبر کو مشرقی پاکستان علیحدہ ہوگیا ، جس کے نتیجے میں پاک وطن آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ایک بڑی ریاست سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

آج سقوط ڈھاکا کو 52 برس مکمل ہو چکے ہیں جب کہ اس کے محرکات میں بھارت کے مذموم اور ناپاک عزائم بھی دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔

مشرقی پاکستان کو علیحدہ ہوئے 52 برس بیت چکے ہیں، تاہم اس کی تلخ یادیں تازہ اور دلوں پر لگنے والے زخم آج بھی ہرے ہیں۔ملک کے دولخت ہونے کی یہ افسوس ناک تاریخ ماضی سے سبق سیکھنے اور دشمن کی چالوں سے خبردار رہنے کی یاد دہانی کراتا ہے۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ 52 سال بعد بھی آج بہ حیثیت مجموعی ہم سیاسی، سماجی، حکومتی اور ہر سطح پر ان ہی غلطیوں کو دہرا رہے ہیں، جس کی وجہ سے پہلے پاکستان دولخت ہوا۔آج بھی دشمن کی سازشوں اور سیاسی مفادات کے نام پر قسم کو سیاسی، لسانی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ قوم کو یاد رکھنا ہوگا کہ اگر ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے لیے درست رہنماؤں کا انتخاب نہ کیا گیا اور آزمائے ہوؤں کو دوبارہ آزمایا گیا تو ملک کے حالات کبھی تبدیل نہیں ہو سکتے۔

ملک کے روشن مستقبل اور بابائے قوم کے اصولوں کے مطابق پاکستان کو خوشحال بنانے کے لیے دیانت دار اور مخلص قیادت کو منتخب کرنا ہوگا اور اس کے لیے قوم کے پاس آئندہ عام انتخابات کی صورت میں بہترین موقع ہے کہ وہ اپنے لیے مخلص قیادت کا انتخاب کرتے ہوئے وطن عزیز کے لیے بہتر فیصلہ کرکے اپنا اور ملک کا مستقبل محفوظ بنائیں۔

جب کہ دوسری طرف سانحہ آرمی پبلک سکول کی 9 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے، سال 2014 کو آج ہی کے دن سفاک دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا۔

16 دسمبر سال 2014ء کے دن تعلیم اور امن دشمن آرمی پبلک سکول کے عقبی راستے سے صبح 10 بجے کے قریب داخل ہوئے، آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے طالب علم آڈیٹوریم میں اکٹھے تھے، دہشت گردوں نے آڈیٹویم میں داخل ہوتے ہی ہر طرف گولیوں کی بوچھاڑ کر دی، سفاک قاتلوں نے اے پی ایس کی دیواروں کو معصوموں کے خون سے رنگ دیا۔

دہشتگردوں کے حملے میں پرنسپل، اساتذہ، طلبہ اور دیگرعملے سمیت 140 سے زائد افراد شہید ہوئے، پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کو بھرپور جواب دیتے ہوئے موقع پر انہیں انجام تک پہنچایا۔

سانحہ اے پی ایس نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں نئی روح پھونکی جس کے نتیجے میں نیشنل ایکشن پلان تشکیل پایا اور قبائلی علاقوں سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہوا، آرمی پبلک سکول حملے میں ملوث 6 دہشتگردوں کو سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا جنہیں ملٹری کورٹس نے موت کی سزائیں سنائی تھیں۔

نو سال بعد بھی سانحہ آرمی پبلک سکول کا غم آج بھی تازہ ہے، شہید ہونے والے بچوں کی یادوں نے مختلف خاندانوں کو آپس میں جوڑ دیا ہے، ایک شہید کے گھر میں اکھٹے ہو کر والدین اپنا غم ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے ہیں۔