تازہ ترین

الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کےمتعلق سائنس دانوں کا تازہ ترین انکشاف

لندن – ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ غذاؤں کے الٹرا پروسیسڈ (یو پی ایف) ہونے کی وجہ سے چھوڑ دینے کے سبب صارفین صحت مند غذاؤں سے محروم ہوسکتے ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن میں کی جانے والی تحقیق میں محققین نے تقریباً 3000 مختلف غذاؤں کا جائزہ لیا اور ان میں موجود اجزاء کا ان کے پیکٹ پر درج معلومات سے موازنہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ تمام الٹرا پروسیسڈ غذاؤں میں غیر صحت بخش اجزاء شامل نہیں ہوتے۔

ان پیکٹس کو ٹریفک لائٹ لیبلنگ سے پرکھا گیا، جن پیکٹس پر لال روشنی جلتی اس کا مطلب ہوتا کہ غذا چکنائی، سیرشدہ چکنائی، چینی اور نمک سے بھرپور ہے۔ معائنے میں نصف سے زیادہ غذاؤں پر لال روشنی نہیں جلی۔

لال روشنی کے بغیر سب سے عام الٹرا پروسیسڈ غذاؤں میں سینڈوچ، فائبر سے بھرپور سیریل، پودوں سے بنے دودھ کے متبادل، ملک شیک اور سفید روٹی شامل تھیں۔

مصنفین کا کہنا تھا کہ ٹریفک لائٹ سٹم کے مطابق گوشت کے بغیر غذائیں بھی صحت مند ہوتی ہیں اور ان کے الٹرا پروسیسڈ ہونے کے باوجود چکنائی، سیر شدہ چنکائی اور چینی پر ہری اور نمک پر نارنجی روشنی واضح ہوئی۔

برٹش نیوٹریشن فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والی ماہرِ غذائیت بریجٹ بینیلم کے مطابق الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور خراب صحت کے درمیان تعلق تشویش کا سبب ہے۔ لوگوں کو صحت مند کھانے اور اس امر کو آسان بنانے کے لیے واضح ہدایات کی ضرورت ہے۔