تازہ ترین

نمک کا متبادل بلند فشار خون سے بچا سکتا ہے، تحقیق

بیجنگ – ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ معمول کے نمک کا کسی متبادل سے تبدیل کیا جانا بوڑھے افراد میں بلند فشار خون میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ جرنل آف دی امیریکن کالج آف کارڈیولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق وہ بوڑھے افراد جو نمک کا متبادل استعمال کرتے ہیں ان کے عام نمک استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں بلند فشار خون میں مبتلا ہونے کے امکانات 40 فی صد تک کم ہوتے ہیں۔

بیجنگ میں قائم پیکنگ یونیورسٹی کلینکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر یینگ فینگ وو کا کہنا تھا کہ بوڑھے افراد سستے اور آسانی سے دستیاب پروسیسڈ غذاؤں کے سبب نمک کا زیادہ استعمال کر جاتے ہیں۔ دل کی صحت کے لیے غذا کے انتخاب اور کم سوڈیم والی غذاؤں کی آگہی میں اضافے کے اثرات کی وضاحت بہت اہم ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بلند فشار خون قلبی مرض اور قلبی مسئلے سے ہونے والی اموات کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہ بیماری ہر سال 1.4 ارب سے زائد افراد کو متاثر کرتی ہے اور ہر سال 1 کروڑ 8 لاکھ افراد کی اموات واقع ہوتی ہیں۔

اس مطالعے میں محققین نے چین کی کیئر فیسلیٹیز میں رہنے والے افراد میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ سوڈیم کی کھپت میں کمی بزرگوں کے بلڈ پریشر میں کس طرح مدد کرسکتی ہے۔

تحقیق میں 48 کیئر فیسلیٹی میں رہنے والے 55 برس اور اس سے زیادہ کے 600 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ ان تمام افراد کا بلڈ پریشر 90/104 تھا اور کوئی بھی اس کے لیے دوا استعمال نہیں کر رہا تھا۔

نصف کیئر فیسلیٹیز میں عام استعمال کے نمک کو متبادل سے بدل دیا گیا جبکہ دیگر نصف میں عام نمک کا استعمال جاری رہا۔ دو سال بعد عام نمک استعمال کرنے والی فیسیلیٹیز میں بلند فشار خون کے کیسز کی شرح (سالانہ 100 میں سے 24.3 کیس) متبادل کے استعمال (100 میں 11.7 کیس) کے مقابلے میں زیادہ تھی۔