تازہ ترین

خون کے ٹیسٹ سے پتہ چل سکتا ہے کہ انسان تنہائی کا شکار ہے، تحقیق

اسلام آباد(سن نیوز)سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ کسی بھی انسان کے خون کے ٹیسٹ سے پتہ چل سکتا ہے کہ وہ تنہائی کا شکار ہے۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، جاپانی محققین کی نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسان کے خون میں پائے جانے والے مرکبات کا باغور جائزہ لینے سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ تنہائی کا شکار ہے یا نہیں۔محقیقین نے اس تحقیق کے لیے 83 افراد کے خون کے نمونوں کا باغور جائزہ لیا، اس دوران سائنسدانوں کو تنہائی کا شکار افراد کے خون میں کچھ خاص مرکبات ملے۔ اس تحقیق کا حصّہ بننے والے ایسے افراد جو کہ تنہائی کا شکار تھے، ان کے خون کے نمونوں میں ایکل کرنیٹن کی بہت زیادہ تعداد پائی گئی جو کہ دل کی بیماریوں کی وجہ بننے والی چربی ہے۔ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد اپنی کارکردگی کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟اس کے علاوہ، ان افراد کے خون میں افسردگی سے وابستہ مرکبات، جیسے بلیروبن اور ارجنائن، بھی دیکھے گئے۔یہ تحقیق’جرنل ڈائیلاگس ان کلینیکل نیورو سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے۔اس حوالے سے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ تحقیق پہلا قدم ہے، جس کے ذریعے وہ تنہائی کی حیاتیاتی جڑوں کو سمجھ سکیں گے۔