تازہ ترین

کپڑوں اور جوتوں کے برانڈز پر ڈسکاؤنٹ میں دھوکہ دہی کا انکشاف

اسلام آباد – کپڑوں اور جوتوں کے برانڈز پر ڈسکاؤنٹ کا جھانسہ دے کر دھوکہ دہی کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ کمپٹیشن کَمِشن آف پاکستان (سی سی پی) نے کپڑوں اور جوتوں کے برانڈز کو ہدایت کی ہے کہ انکی جانب سے ڈسکاؤنٹ دینے کی صورت میں صارفین کو اصل اور رعایتی قیمتوں کے بارے میں مکمل آگاہی واضح طور پر فراہم کی جائے۔ اس حکمنامہ کو نظر انداز کرنے والے برانڈز کو سی سی پی انفورسمنٹ کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

سی سی پی کے مطابق آج کل کپڑوں اور جوتوں کے مختلف برانڈز کی جانب سے اپنی پراڈکٹس پر ڈسکاؤنٹ دینے کا سلسلہ عروج پر ہے اور اِس سلسلے میں جاری سی سی پی تحقیقات میں پراڈکٹس پر ڈسکاؤنٹ دینے میں صارفین سے دھوکہ دہی کے طریقوں کے استعال کا انکشاف ہوا ہے۔

ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے طریقہ جات کمپیٹیشن ایکٹ کی سیکشن 10 کی خلاف ورزی کے ضمرے میں آسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایکٹ کا سیکشن 10 دھوکہ دہی پر مبنی مارکیٹنگ سے متعلق ہے۔ سی سی پی کی جانب سے اس سلسلے میں کئے گئے سروے اور ابتدائی تحقیقات میں ایسے 27 برانڈز کی نشاندہی کی گئی جو کہ جو اپنی مصنوعات پر “فلیٹ” ڈسکاؤنٹ کی تشہیر کر رہے تھے لیکن اصل میں وہ “فلیٹ ڈسکاؤنٹ” تمام مصنوعات پر لاگو نہیں تھا۔

دکان کے باہر سے دِکھایا جانے والا زیادہ ڈسکاؤنٹ دکان کے اند ر موجود اشیاء کی قیمتوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ شرائط و ضوابط سے متعلق ڈسکلیمر بھی فونٹ سائز چھوٹا ہونے کی بنا پر پڑھا نہیں جا رہا تھا۔ اور بہت سی جگہ شرائط وضوابط کا ذکر ہی نہیں کیا گیا تھا۔

مذید براں بہت سی ایسی آفرز جِن میں فلیٹ 50 فیصد اور بینک کارڈز کے زریعے مزید 20 فیصد ڈسکاؤنٹ آفر کیا گیا تھا۔ میں آن لائن اور ریٹیل خریداری کیلئے مختلف شرائظ عائد کی گئی تھیں جو صارفین کیلئے مذید اْلجھن اور گمراہ کرنے کا باعث بن رہی تھیں۔ سروے کئے گئے تقریباَ 96 فیصد آؤٹ لیٹ میں یہ تضادات دیکھے گئے خریدری کیلئے ضروری معلومات کی فراہمی بہت اہمیت رکھتی اور ضروری معلوما ت کے ساتھ ڈسکلوزر کی کمی صارفین کی فیصلہ کرنے کے قوت کو کمزور کرتی ہے۔

سی سی پی صارفین کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ وہ چوکس رہیں اور ڈسکاؤنٹ اور سیلز آفرز کی شرائط وضوابط کا اچھی طرح سے جائزہ لیں تاکہ دھوکہ دھی والے مارکیٹنگ کے طریقوں کا شکار نہ ہوں سی سی پی نے “سیکشن 10پر گائیڈلائنز: دھوکہ دھی پر مبنی تشہیر” جاری کر رکھی ہیں جو کہ بیٹ اور سوئچ ایڈورٹائزنگ کی بھی ممانعت کرتی ہے۔