تازہ ترین

سندھ میں 10 سال بعد کپاس کا پیداواری ہدف حاصل

کراچی – سندھ میں تقریبا ایک دہائی کے بعد حیران کن طور پر کاٹن ایئر ختم ہونے سے قبل ہی کپاس کا سالانہ پیداواری ہدف حاصل کرلیا گیا۔ ادھر پنجاب 30نومبر 2023 تک مقررہ ابتدائی ہدف کا صرف 44فیصد ہی حاصل کرسکا ہے، خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ رواں سال پنجاب مقررہ ہدف کا 55فیصد کے لگ بھگ ہی حاصل کر سکے گا۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونے والے کپاس کے مجموعی ملکی پیداواری اعداد و شمار کے مطابق 30نومبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 81فیصد کے اضافے سے مجموعی طور پر 77لاکھ 53ہزار روئی کی گانٹھوں کے مساوی کپاس جننگ فیکٹریوں میں پہنچنی ہے۔
زیرتبصرہ مدت میں پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 49فیصد کے اضافے سے 37لاکھ 37ہزار جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 128فیصد کے اضافے سے 40لاکھ 16ہزار روئی کی گانٹھوں کے مساوی کپاس پہنچی ہے۔

اس مدت میں پاکستان سے ایک لاکھ 25ہزار روئی کی گانٹھوں کی برآمدات ہوئی ہیں جبکہ ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے 67لاکھ 55 ہزار روئی گانٹھوں اور ایک غیر ملکی فرم کی جانب سے ایک لاکھ 65ہزار روئی کی گانٹھوں کی خریداری کی گئی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں ہدف کے مقابلے میں غیر معمولی کمی کی بڑی وجہ انتہائی منفی موسمی حالات اور فصل کو شدید نقصان پہنچنا ہے جس میں خاص طور پر سفید مکھی کا غیر معمولی حملہ ہے جبکہ پنجاب میں کپاس کی کاشت عملی طور پر رپورٹ شدہ رقبے کے مقابلے میں بہت کم رقبے پر کاشت ہونا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں رواں سال فروری/مارچ میں سندھ کے ساحلی علاقوں میں کپاس کی ریکارڈ کاشت اور کئی سال بعد کپاس کی کاشت اور چنائی کے وقت روایتی نوعیت بارشیں نہ ہونے سے ناصرف کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے بلکہ اس کا معیار بھی بہتر ہونے سے رواں سال روئی کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہونا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال ابتدائی طور پر حکومتی سطح پر کاٹن ایئر2023.24 کے لئے کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف ایک کروڑ و8لاکھ گانٹھیں مقرر کیا گیا تھا جس میں سے سندھ کے لئے 40لاکھ گانٹھ جبکہ پنجاب کے لئے 83لاکھ 37ہزار گانٹھیں مقرر کیے گئے تھے لیکن حیران کن طور پر سندھ نے اپنا ہدف 30نومبر کو ہی حاصل کرلیا ہے لیکن پنجاب اپنے مقررہ ہدف کی نسبت 55فیصد کی پیداوار حاصل کرسکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بڑی تیزی سے ظہور پذیر ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر سندھ کے ساحلی شہروں کی طرح اگر ملک بھر میں نئے کاٹن ایئر کا آغاز فروری/مارچ میں کیا جائے تو اس سے توقع ہے کہ پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار 15ملین گانٹھوں کے لگ بھگ ہو سکتی ہے۔

تاہم پاکستان میں اب کپاس کی پیداوار کی بجائے اس کی کھپت اب ایک سوالیہ بن چکی ہے کیونکہ بجلی، گیس، قرضوں پر شرح سود اور ٹیکسز کی شرحوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث پاکستان میں بڑی تیزی سے ٹیکسٹائل ملز غیر فعال ہو رہی ہیں۔

جبکہ سندھ بھر کی صنعتوں نے 4دسمبر سے گیس کی نرخوں میں غیر معمولی اضافے کے خلاف صنعتیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ سلسلہ پنجاب تک بھی پہنچ جائے گا جس سے ملکی معیشت کو غیر معمولی نقصان پہنچے کا خدشہ ہے اس لئے وفاقی حکومت کو چاہیئے کہ وہ آئی ایم ایف کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایسے اقدامات اٹھائے کہ جس سے ہماری صنعتیں مکمل طور پر فعال ہو سکیں اور ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔