تازہ ترین

ڈالر کے انٹربینک اور اوپن ریٹ میں مزید اضافہ

کراچی – ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، بدھ کو بھی امریکی کرنسی کے انٹربینک اور اوپن ریٹ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

آئی ایم ایف کا ریویو شروع ہونے سے قبل مارکیٹ میں عدم استحکام کی کیفیت، کثیرالقومی کمپنیوں اور غیرملکی سرمایہ کاروں کی زرمبادلہ میں منافع کی رقم اپنے ہیڈ کوارٹر منتقل کرنے کے دباؤ کے سبب بدھ کو بھی ڈالر کی پیش قدمی جاری رہی جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 282روپے اور اوپن ریٹ 283روپے سے بھی تجاوز کرگئے۔

اس طرح سے گذشتہ 17سیشنز میں ڈالر کی نسبت روپے کی قدر میں مجموعی طور پر 2.09فیصد کمی آئی، انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ 1روپے 17پیسے کے اضافے سے 282روپے 64پیسے کی سطح پر بند ہوئے۔
اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 50پیسے کے اضافے سے 283روپے 50پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ درآمدی نوعیت کی اگرچہ ڈیمانڈ نہیں ہے لیکن ایکسپورٹرز کی جانب سے مستقبل کے لیے ڈالر کی فروخت گھٹ گئی ہے۔

دوسری جانب مشرق وسطی کے بحران کی وجہ سے یہ پیش گوئیاں کی جارہی ہیں کہ اگر فلسطین اسرائیل جنگ طول اختیار کرجاتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں فی بیرل خام تیل کی قیمت 150ڈالر کی سطح تک پہنچ سکتی ہے جس کا پاکستان کسی صورت میں متحمل نہیں ہوسکتا۔

ان عوامل کے سبب مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی دوبارہ گھٹ گئی ہے جس کے نتیجے میں طلب ورسد کا توازن دوبارہ بگڑگیا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کے انتظامی اقدامات کے نتیجے میں ایک ہفتے قبل تک زرمبادلہ کی سپلائی بہتر ہوچکی تھی لیکن پاکستان کو درپیش بیرونی ادائیگیوں کے چیلنجز کثیرالقومی کمپنیوں اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے مرکزی بینک کی ڈیمانڈ ڈالر کی پیش قدمی کا باعث بن رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کی مارکیٹوں میں غیرملکی کمپنیوں کے منافع کی مد میں ماہوار 150 سے 200ملین ڈالر کی ڈیمانڈ ہے جسے سپلائی بہتر ہونے کی صورت میں ہی پورا کرنا ممکن ہے۔

ماہرین مزید کہتے ہیں کہ درآمدی سرگرمیاں اب بھی محدود ہیں لیکن جولائی سے گیس ٹیرف بڑھانے اور خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ کے رحجان کی وجہ سے مہنگائی میں اضافے کے خدشات پائے جارہے ہیں اور یہ پیش گوئیاں بھی کی جارہی ہیں کہ ڈالر کی قدر اب 280 سے 285روپے کے درمیان رہے گی۔

آئی ایم ایف کی جائزہ ٹیم کی جانب سے پاکستان کے اقتصادی جائزے کا عمل جمعرات ( 2 نومبر) سے شروع ہوجائے گا اور حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط پر من وعن عمل درآمد کی وجہ سے توقع ہے کہ دسمبر میں آئی ایم ایف سے 710ملین ڈالر کی دوسری قسط جاری ہوجائے گی جو ڈالر کی نسبت روپیہ کے استحکام کا باعث بنے گی۔