تازہ ترین

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

کراچی – اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے موجودہ شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے ساتھ ہی ایک بار پھر مہنگائی میں کمی کی نوید سنائی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی جاری کردی جس میں مرکزی بینک نے شرح سود نہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے اور شرح سود اگلے اعلان تک 22 فیصد کی سطح پر برقرار رہے گی۔

اسٹیٹ بینک نے ایک بار پھر مہنگائی میں کمی کی نوید بھی سنائی ہے اور کہا ہے کہ اکتوبر کے دوران مہنگائی میں کمی آئے گی، مہنگائی میں کمی کا سلسلہ دوسری ششماہی میں بھی جاری رہے گا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق عمومی مہنگائی ستمبر میں بڑھ کر 31.4 فیصد سال بسال تک پہنچ گئی تاہم ایندھن کے نرخوں بعض اہم غذائی اجناس کی قیمتوں اور سازگار اساسی اثرات سے مہنگائی کم ہوگی مالی سال 24ء کی دوسری ششماہی سے مہنگائی میں خاصی کمی آئے گی، تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اور متغیر رجحان اور اس کے ساتھ ساتھ گیس کے نرخوں میں خاصے اضافے کے دورِ ثانی کے اثرات مہنگائی کے منظرنامے پر اضافے کے کچھ خطرات کا سبب بن سکتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 24ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران مالیاتی اور بنیادی توازن دونوں میں بہتری آئی، اہم اجناس کی مارکیٹ میں دستیابی بہتری آرہی ہے، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ایکس چینج ریٹس میں مطابقت پیدا ہوئی ہے۔ خریف کی فصلوں کے ابتدائی تخمینے حوصلہ افزا ہیں، جاری کھاتے کا خسارہ اگست اور ستمبر میں خاصا کم ہوا ہے، اگست ستمبر کے دوران بیرونی فنانسنگ میں کمی سے زر مبادلہ کے ذخائر کی مستحکم رہے، مالی سال 24ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران مالیاتی اور بنیادی توازن دونوں میں بہتری آئی۔

مانیٹری پالیسی کے ساتھ مالیاتی پالیسی بھی استحکام کے مجموعی اقدامات میں معاونت کر رہی ہے جو غذائی اجناس کی بہتر دستیابی کے ساتھ ہم آمیز ہو کر امید ہے کہ مہنگائی کم کرنے کی مرکزی بینک کی کوششوں کی تکمیل کرے گی۔

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی اعلامیے میں کہا ہے کہ مہنگائی اکتوبر میں کم ہوگی دوسری ششماہی میں بھی کمی کا سلسلہ جاری رہے گا، آئی ایم ایف کے جائزے کی کامیاب اور بَروقت تکمیل سے کثیر ملکی اور دوطرفہ مالکاری میں اضافہ ہوگا، 12 ماہ کی مستقل بنیادوں پر حقیقی پالیسی ریٹ خاصا مثبت ہے، حقیقی پالیسی ریٹ مہنگائی کو مالی سال 25ء کے آخر تک 5 تا 7 فیصد تک لانے کے لیے مناسب ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق خریف کی اہم فصلوں کی پیداوار کے تازہ ترین تخمینے خاصے اضافے کی عکاسی کررہے ہیں، فصلوں کی پیداوار میں کھاد کے استعمال کی بلند سطح اور پانی کی دستیابی سے تقویت ملی، سیمنٹ، پیٹرولیم مصنوعات اور گاڑیوں کی فروخت کی معتدل بحالی بھی مضبوطی ہورہی ہے، جولائی تا ستمبر مالی سال 24ء میں خسارہ 58 فیصد سال بسال کم ہو کر 947 ملین ڈالر رہ گیا۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہے کہ گزشتہ دو ماہ کی بہ نسبت ستمبر میں برآمدات اور کارکنوں کی ترسیلاتِ زر دونوں میں بہتری آئی۔ایکس چینج کمپنیوں سے متعلق اصلاحات اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف انتظامی اقدامات سود مند رہے، انٹربینک میں انفلوز سے سرکاری ذخائر 7.5 ارب ڈالر کی سطح پر مستحکم کرنے میں مدد ملی اور مالی سال 24ء کی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی اظہاریے بہتر ہوگئے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 1.0 فیصد سے کم ہوکر 0.9 فیصد پر آ گیا، ایف بی آر کے محاصل میں 24.9 فیصد اضافہ درج کیا گیا، نان ٹیکس محاصل دگنا ہوگئے، مہنگائی میں کمی لانے کے لیے بدستور مالیاتی دور اندیشی اور ہدفی مالیاتی استحکام کا حصول اشد ضروری ہے۔