تازہ ترین

کاٹن سیکٹر ملکی تاریخ کے بدترین مالیاتی بحران کا شکار

کراچی – ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے کاٹن جنرز سے روئی خریداری کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری سے مشروط کیے جانے سے روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کا رجحان پیدا ہوگیا ہے جس سے کاٹن سیکٹر ملکی تاریخ کے بدترین مالیاتی بحران کا شکار ہوگیا ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ آئندہ سال کپاس کی کاشت میں ریکارڈ کمی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں، فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر نے کپاس کا پیداواری ہدف 12 لاکھ 70 ہزار گانٹھ کم کرکے نیا پیداواری ہدف ایک کروڑ 15 لاکھ گانٹھ مقرر کردیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ رواں سال وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کاٹن ایئر 2023-24 ’’زیادہ کپاس اگاؤ‘‘ سال قرار دیتے ہوئے کسانوں سے زیادہ سے زیادہ کپاس کاشت کرنے کی اپیل کی تھی اور فی 40 کلو کپاس کی مداخلتی قیمت 8 ہزار 500 روپے مقرر کرتے ہوئے کسانوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اوپن مارکیٹ میں کپاس کی مقررہ قیمت سے کم ہونے کی صورت میں ٹی سی پی فوری طور پر کاٹن جنرز سے روئی کی 10 لاکھ گانٹھوں کی خریداری کرے گی۔

گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران پاکستان میں روئی کی فی من قیمت 6000 روپے کی کمی سے 16 ہزار روپے ہو گئی جبکہ فی 40 کلوگرام پھٹی کی قیمت 7 ہزار روپے کی سطح پر آ گئی جبکہ ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے روئی خریداری سرگرمیوں میں عدم دلچسپی کے باعث کاشتکاروں اور کاٹن جنرز کی جانب سے مختلف فورمز پر وفاقی حکومت سے ٹی سی پی کے ذریعے فوری طور پر روئی خریداری کا مطالبہ کررہے ہیں۔

یہ اطلاعات بھی زیرگردش ہیں کہ وزارت تجارت نے اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس بھی منعقد کیا ہے لیکن اس اجلاس میں روئی خریداری سے متعلق کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔