تازہ ترین

ڈریسنگ روم میں ’’پرانے‘‘ چہرے کپتان کا حوصلہ بڑھانے لگے

لاہور( سن نیوز)مشن ورلڈکپ کیلیے ڈریسنگ روم میں ’’پرانے‘‘ چہرے کپتان کا حوصلہ بڑھانے لگے۔ورچوئل پریس کانفرنس میں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہاکہ ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں ورلڈکپ کی تیاری کا اچھا موقع ملا، ایل سی سی اے گراؤنڈ پر پہلے سیناریو میچز میں بھی خوب پریکٹس ہوئی، جمعرات کو قذافی اسٹیڈیم میں اسی نوعیت کے دوسرے مقابلے میں بھی صلاحیتیں نکھارنے کا موقع ملے گا۔سینئرز کی شمولیت سے اسکواڈ کو حاصل ہونے والی تقویت کے سوال پر کپتان نے کہا کہ تمام کھلاڑی کارکردگی کی بنیاد پر منتخب ہوئے ہیں، شعیب ملک اور محمد حفیظ نے بہت زیادہ انٹرنیشنل اور لیگ کرکٹ کھیلی،دونوں میچ ونرز ہیں، اسکواڈ میں شامل7 کھلاڑی چیمپئنز ٹرافی میں ایک ساتھ کھیل چکے، نوجوان کرکٹرز میں بھی صلاحیتیں موجود ہے،سینئرز کے تجربے سے انھیں سیکھنے کا موقع ملے گا،ہم جونیئرز کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ایک سوال پر بابر اعظم نے کہا کہ ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی قیادت بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہے۔ محمد رضوان اور میرا نام بار بار آرہا ہے کہ ہمیں ہی اچھا کرنا ہے، ہماری بھی کوشش ہوگی کہ ذمہ داری سے کھیلیں اور توقعات پر پورا اتریں، پلان تو یہی ہے کہ میگا ایونٹ میں بھی میرے ساتھ رضوان ہی اننگز کا آغاز کریں، باقی دبئی پہنچ کر حالات کو دیکھتے ہوئے ہی کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں، وہاں وارم اپ میچز ہیں، کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے ضرورت ہوئی تو پلان تبدیل کیا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ چند میچز میں پاکستان فخرزمان کو مڈل آرڈر میں کھلانے کا تجربہ کرتا رہا جس پر سابق کرکٹرز نے تنقید کی تھی۔ایک سوال پر کپتان نے کہا کہ شاداب خان، عماد وسیم اور محمد حفیظ کی صورت میں 3 اسپنرز عام طور پر ٹیم کا حصہ ہوتے ہیں۔کنڈیشنز کو دیکھ کر مزید سلو بولر بھی پلیئنگ الیون میں شامل کرسکتے ہیں۔بابر اعظم نے کہا کہ بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ ہر شعبے میں ہوتی ہے، یہی ہماری کوشش بھی ہوگی، لمبی بیٹنگ لائن ورلڈکپ میں ہماری قوت ہے مگر بولرز بھی میچ جتوانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، امید ہے کہ گرین شرٹس دونوں شعبوں میں اچھا پرفارم کریں گے، حسن علی اور شاہین سمیت پیسرز میں جارحیت اور میچ وننگ خصوصیت ہے، خوشی کی بات ہے کہ میں جس کو بھی گیند تھماؤں وہ توقعات پر پورا اترنے کی اہلیت رکھتا اور کوشش بھی کرتا ہے، اسی اعتماد کے بھروسے ہم فتوحات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ ہم یواے ای میں کافی کرکٹ کھیل چکے اور وہاں کی کنڈیشنز سے اچھی طرح آگاہ ہیں مگر میگا ایونٹ میں جیت کیلیے بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی۔بابر اعظم نے کہا کہ کوئی بھی میگا ایونٹ ہو ہر میچ دباؤ سے بھرپور ہوتا ہے،ہم بھارت کیخلاف فتح سے ابتدا میں مومینٹم حاصل کرکے پھر اسے برقرار رکھیں گے، اس جیت سے اگلے معرکوں کیلیے اعتماد میں اضافہ ہوگا،ایک گروپ کے طور پر سب کا مورال بلند اورمجھے کھلاڑیوں پر اعتماد و یقین ہے، نیا میچ نیا چیلنج ہوگا، ماضی کے نتائج سے قطع نظر روایتی حریف کیخلاف اچھی کرکٹ کھیلیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہی پلان کرنا ہے کہ کسی اضافی دباؤ کا شکار ہونے کے بجائے اپنی توجہ کرکٹ پر مرکوز رکھتے ہوئے بہترین کارکردگی پیش کریں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم نہ صرف بھارت کیخلاف پہلا میچ بلکہ سیریز بھی جیت سکتے ہیں،ہم ہر لحاظ سے مکمل تیار ہوکر میدان میں اتریں گے۔میگا ایونٹ سے قبل نئے کوچز کے ساتھ ہم آہنگی میں ممکنہ مشکلات کے سوال پر انھوں نے کہا کہ میتھیو ہیڈن اور ورنون فلینڈر کا بہت تجربہ ہے، سابق پروٹیز پیسر نے پاکستان پہنچ کر اچھا کام کیا، بولرز ان سے سیکھنے اور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، یواے ای میں کم وقت میں ہم ایک دوسرے کو جاننے کے بعد مل کر کام کرتے ہوئے ٹیم کیلیے اچھے نتائج حاصل کریں گے۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں