تازہ ترین

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ 6ممالک سے ایوارڈز حاصل کرنے والے پاک فوج کے پہلے سربراہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے اور اس رجمنٹ کی جانب سے پہلے بھی سابق صدر جنرل یحییٰ خان اور جنرل اشفاق پرویز کیانی پاک فوج کی قیادت سر انجام دے چکے ہیں۔پاک فوج کی سربراہی کرنا اور پھر اس سربراہی میں پوشیدہ امتحانات کو جھیلنا کسی دل گردے والے انسان کے بس کی بات ہے۔ یہ کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ اتنے مشکل فرض سے نمٹ سکے۔ گزشتہ چھ برس سے جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی انجام دیا ۔پاک فوج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کی بدولت حربی تاریخ میں اپنا ایک الگ مقام حاصل کیا ہے۔محدود وسائل کے ساتھ بڑے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے پاک فوج کی خدمات قابل فخر ہیں۔قمر جاوید باجوہ اپنے ساتھیوں میں جنرل (ر)راحیل ہی کی طرح ’کھلے ڈلے‘ افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور انہی کی طرح فوج کی تربیت اور مہارت میں اضافے کے ہر وقت خواہشمند رہتے ہیں۔جنرل باجوہ پاکستان کی سب سے بڑی 10 کور کی ناصرف کمانڈ کر چکے ہیں۔ حال ہی میں مکمل ہونے والی فوجی مشقوں کو جنرل باجوہ ہی نے ڈیزائن کیا تھا۔اس کے علاوہ وہ کوئٹہ میں انفینٹری سکول کے کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔جنرل باجوہ پاکستان کی سب سے بڑی 10 کور کی ناصرف کمانڈ کر چکے ہیں بلکہ اپنے کیرئیر میں دو مرتبہ اس کور میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کی امن مشن کے تحت کانگو میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان آرمی کے پہلے ایسے سربراہ ہیں جن کو چھ مختلف دوست ممالک کی جانب سے بہترین خدمات پر اعلیٰ اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دورے کے دوران آرمی چیف کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ’’آرڈر آف یونین‘‘ میڈل سے نوازا۔ یہ اعزاز دو طرفہ تعلقات کے فروغ کیلئے جنرل قمر جاوید باجوہ کے نمایاں کردار کے اعتراف میں دیا گیا۔ اس سے قبل 26 جون 2022 ء کو سعودی ولی عہد اور نائب وزیر اعظم محمد بن سلمان نے انہیں ’’کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس‘‘ سے نوازا تھاجبکہ 9 جنوری 2021 کو بحرین کے ولی عہد کی جانب سے ’’بحرین آرڈر (فرسٹ کلاس) ایوارڈ‘‘ دیا گیا اور 5 اکتوبر 2019 ء کو اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے بھی ’’آرڈر آف ملٹری میرٹ‘‘ کے ایوارڈ سے نوازا تھا۔ اسی طرح روسی سفیر نے آرمی چیف کو 27دسمبر 2018 ء کو ’’کامن ویلتھ ان ریسکیو اینڈ لیٹر آف کمنڈیشن آف رشین مانٹیئرنگ فیڈریشن‘‘ کا اعزاز دیا۔ قبل ازیں 20 جون 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ترکی کے ’’لیجن آف میرٹ ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ دنیا نے پاکستانی افواج کی خدمات کا ہر مقام پر اعتراف کیا ہے۔ آرمی چیف کو ملنے والے اعزازات بلاشبہ پاکستان کیلئے اعزاز ہیں جوعالمی سطح پر عساکر پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا برملا اعتراف ہے۔آجکل پاکستان کو شدید سیلابی صورتحال کا سامنا ہے اور پاک فوج ، حکومت اور دیگر ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نےاس مشکل صورتحال میں بھی پاکستانیوں کو تنہا نہیں چھوڑا۔آرمی چیف خود سیلاب زدہ علاقوں میں جاکر امدادی کارروائیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سیلاب زدگان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اورمسائل سن رہے ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید سے پاکستانیوں کو پیار بھی والہانہ ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں وہ دلوں میں بسنے والے جرنیل ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں