تازہ ترین

لسبیلہ شہدا کی توہین میں پی ٹی آئی ملوث نکلی، 178تحریک انصاف کے اکائونٹس کے علاوہ 18بھارتی اکائونٹس کے ملوث ہونے کا انکشاف

اسلام آباد:لسبیلہ شہداکی توہین میں پی ٹی آئی کے ملوث ہونے کا ثبوت مل گیا۔سانحہ لسبیلہ سے متعلق منفی مہم کی انکوائری رپوٹ جاری کر دی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو بنیاد بنا کر پاک فوج کے خلاف مہم چلانے والوں میں پی ٹی آئی کا بھی ہاتھ تھا۔ رپورٹ میں 580 اکاؤنٹس کا ذکر کیا گیا ہے جو پاک فوج کے خلاف استعمال کئے گئے۔ ان پانچ سو اسی اکائونٹس میں سے ایک سو اٹھتہر اکاؤنٹس کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے نکلا۔ پاک فوج کے خلاف سب سے زیادہ سوشل میڈیا مہم چلانے والوں کا تعلق انہی اکاؤنٹس سے ہے۔ کل 580 اکاؤنٹس کے ذریعے 2 ہزار 350 پوسٹیں کی گئیں اور ان میں 18 بھارتی اکائونٹس بھی شامل تھے جن کے ذریعے پاک فوج کے خلاف زہریلا مواد وائرل کیا جاتا رہا۔ انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کیخلاف مذموم مہم چلانے والے ایکٹوسٹ اور سرغنہ کا سراغ بھی لگا لیا ہے اور شہدا اور پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلانے والوں پر جلد از جلد مقدمات درج کیے جائیں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاک فوج اور شہدا سے متعلق منفی مہم چلانے میں ملوث افراد سے مکمل تفتیش کے بعد ان کے ہینڈلرز اور ماسٹرمائنڈ تک پہنچا جائے گا۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پاک فوج کے خلاف مہم چلانے والوں پر مقدمے درج کئے جائیں ۔ مقدمے پیکا اور تعزیرات پاکستان کے تحت درج کئے جائیں ۔ تفتیش کے ذریعے پتہ لگایا جائے کہ  ملوث افراد کو کون ہدایات جاری کر رہا تھا۔ لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے پر چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تھی اور یہ انکوائری رپورٹ  اسی کمیٹی نے جاری کی ہے ۔ انکوائری رپورٹ میں پی ٹی آئی کے ایک سو اٹھہتر اکائونٹس کے ذریعے پاک فوج کے شہدا اور ادارے کے خلاف مذموم مہم چلانے سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی آلہ کار ہے، جن اٹھارہ بھارتی اکائونٹس سے یہ مذموم مہم جاری تھی پی ٹی آئی کے اکائونٹس سے زہریلے مواد نے ازلی دشمن بھارت کی خدمت کی ہے، یہ اکائونٹس بھارتی مہم کے آلہ کار ثابت ہوئے ہیں۔ انکوائری رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد اب ان ایک سو اٹھہتر افراد کو ملک دشمن سرگرمیاں کرنے پر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے عبرتناک سزا دی جانی چاہئے تا کہ آئندہ کوئی بھی ملک دشمنوں کا آلہ کار نہ بن سکے۔ اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر یہ تحقیقات بھی ہونی چاہئے کہ جن ایک سو اٹھہتر اکائونٹس سے یہ مواد وائرل کیا جاتا رہا ان کے پیچھے اصل ہاتھ کس کا تھا۔ کیا پی ٹی آئی کی قیادت بھی اس مکروہ اور قبیح دھندے کا حصہ تھی یا نہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں