تازہ ترین

تحریک انصاف کیخلاف ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ محفوظ ، کیا عمران خان الیکشن کمیشن کا فیصلہ تسلیم کریں گے؟ ممنوعہ فنڈنگ کیس کا مختصر جائزہ

اسلام آباد(نیوزڈیسک)تحریک انصاف کیخلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے محفوظ کر لیا ہے اور ممکنہ طور پر تحریک انصاف کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔دوسروں کا احتساب کرنے والا خود اپنے احتساب سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتااور حقیقت سامنے آکر رہے گی ۔ممنوعہ فنڈنگ کیس کیا ہے؟ آیئے جانتے ہیں۔2014میں تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے اپنی ہی بنائی پارٹی کیخلاف ممنوعہ فنڈنگ کا معاملہ اٹھایا تھا۔ان کا الزام تھا کہ عمران خان نے تحریک انصاف کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کیلئے بیرون ملک امریکا اور برطانیہ میں لائیبیلیٹیز کمپنیز بنائیں اور ان کمپنیوں میں ممنوعہ ذرائع سے پیسہ اکٹھا کیاگیا۔انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے فنڈز بھی ممنوعہ ذرائع سے پی ٹی آئی کارکنوں کے اکائونٹس میں منتقل کیا گیا اور ہنڈی کے ذریعے بھی رقم بھجوائی گئی۔اکبر ایس بابرنے پہلے تو 2011 میں معاملہ عمران خان کے آگے اٹھایا اور جسٹس وجیہہ الدین کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا جو ان معاملات کی تحقیقات کرے تاہم اس پر عمران خان نے کوئی کارروائی نہ ہونے دی۔لیکن عمران خان کی طرف سے کوئی کارروائی نہ ہونے کی بنا پر وہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں لے کر گئے۔اُنھوں نے کہا کہ ان کا الیکشن کمیشن میں اس درخواست کو لے کر جانے کا مقصد کسی جماعت پر پابندی لگوانا نہیں اور نہ ہی کسی کی عزت کو اُچھالنا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ممنوعہ ذرائع سے حاصل ہونے والے فنڈز سے ملکی سلامتی پر سمجھوتہ ہوتا ہے۔الزامات عائد کئے گئے کہ پارٹی میں بھارت،اسرائیل سمیت امریکا، برطانیہ، کینیڈا، ناروے، فن لینڈ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا سمیت دیگر غیر ملکی یہودی لابی اور پاکستان دشمن قوتوں سے کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ موصول ہوئی اور اس کو پارٹی اثاثوں میں ظاہر بھی نہیں کیا گیا۔مزید یہ کہ دو آف شور کمپنیوں کے ذریعے لاکھوں ڈالر پی ٹی آئی کے جن بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے،عمران خان نے یہ بینک اکاؤنٹ الیکشن کمیشن سے خفیہ رکھے ہیں اور یہ عمل نیازی کی اصل دبدیانتی اور ملک دشمنی کو ظاہر کرتا ہے۔جھوٹ بول کر عوام کو بےوقوف بنانے والی جماعت نے فارن فنڈنگ کیس میں اپنے جھوٹ اور ملک دشمنی کو چھپانے کیلئے 9 وکیل بدلے اور کیس میں بار بار التوا مانگا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان جس کا نہ کوئی کاروبار ہے، نہ ہی کوئی قابل ذکر ذریعہ آمدن ہے، وہ چھبیس سال سے ایک پارٹی کو کیسے چلارہا ہے؟تحریک انصاف کے جلسوں میں ہونیوالے کروڑوں روپے کے اخراجات کون ادا کر تا ہے؟ان تمام سوالات کا جواب قوم عمران خان سے لینا چاہتی ہے ۔ چونکہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ واحد سیاستدان ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے صادق اور امین ڈکلئیر کیا ہے لٰہذا انہیں چاہئے کہ وہ ان تمام سوالات کے جوابات دیں اور حقائق قوم کے سامنے رکھیںلیکن اس کے برعکس عمران خان کا رویہ انتہائی بچگانہ ہے۔وہ موجودہ الیکشن کمشنر جنہیں اپنے بطور وزیراعظم خود انہوں نے تعینات کیا اسی پر دوسری جماعتوں کی جانبداری کا الزام لگاتے ہیں کیونکہ موجودہ الیکشن کمشنر نے فارن فنڈنگ کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ عمران خان اپنا سیاسی مستقبل تاریک دیکھ کر خوفزدہ ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نےچیف الیکشن کمشنر کو غدار تک کہہ دیا۔ حالانکہ اسی چیف الیکشن کمشنر کی ایمانداری کے وہ گھن گایا کرتے تھے۔جو عمران خان کو جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر ممنوعہ فنڈنگ کا محفوظ فیصلہ تحریک انصاف کے خلاف آیا تو عمران خان اسے ماننے سے انکار کریں گے اور الیکشن کمشنر کی کردارکشی کریں گےتاہم اداروں کو بے خوف ہو کر حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ سنانا چاہئے ۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں