تازہ ترین

اصلی بیان حلفی کا سربمہر لفافہ اگلی سماعت پر کھولنے کا فیصلہ

اسلام آباد( سن نیوز)گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کا لندن سے کورئیر کے ذریعے منگوایا گیا اوریجنل بیان حلفی کا لفافہ کمرۂ عدالت پہنچا دیا گیا، سربمہر لفافہ کمرہ عدالت میں آئندہ سماعت پر کھولا جائے گا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ، سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی کی خبر پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی، رانا شمیم عدالت میں پیش ہوئے۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللّٰہ نیازی اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،قاسم ودود نے بتایا کہ آج اٹارنی جنرل کراچی میں کچھ علاج کیلئے گئے ہیں۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم اٹارنی جنرل کا انتظار کرلیتے ہیں، اس موقع پر لندن سے کورئیر کے ذریعے آیا لفافہ کمرہ عدالت پہنچایا گیا۔وکیل فیصل صدیقی نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ اس کیس میں فریقین کے جواب دیکھنے کے بعد میں نے بریف جمع کرا دیا ہے۔چیف جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے کہا کہ لندن سے آیا کورئیر سربمہر رکھا ہوا ہے، آپ چاہیں تو ابھی کھول سکتے ہیں، آپ کے کلائنٹ مانتے ہیں اخبار میں جو چھپا ہے وہ ان کے بیان حلفی کے مطابق ہے۔چیف جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے وکیل لطیف آفریدی سے کہا کہ عدالت چاہتی ہے آپ اپنا سربمہر لفافہ خود کھول لیں، طیف آفریدی نے اس پر کہا کہ پھر ایک نئی انکوائری شروع ہوجائے گی۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے کلائنٹ نے یہ تاثر دیا کہ ہائیکورٹ کمپرو مائزڈ ہے، لطیف آفریدی نے کہا کہ رانا شمیم کا کہنا ہے انہوں نے بیان حلفی کسی کو اشاعت کیلئے نہیں دیا۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ بولے کیا اس کورٹ کے کسی جج پر کوئی انگلی اٹھائی جاسکتی ہے؟شمیم کے وکیل نے کہا میں نے کب اس کورٹ پرکوئی انگلی اٹھائی ہے؟جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے کہاکہ عدالت صحافی سے اس کا سورس نہیں پوچھے گی۔عدالت نے کہاکہ رانا شمیم نے یہ بھی تاثردیا ہے کہ استحقاقی دستاویز نوٹری پبلک سے لیک ہوا ہوگا، ایسا ہے تو کیا برطانیہ میں ان کےخلاف کوئی کارروائی کی گئی؟۔ہائیکورٹ میں موجود جنرل سیکرٹری پی ایف یو جے ناصرزیدی نے بین الاقوامی عدالتوں کے حوالے پیش کرتے ہوئے کہاکہ اظہار رائے کی آزادی پر توہین عدالت نہیں لگ سکتی۔عدالت نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی مفاد عامہ کےخلاف آجائے تو پھر بات مختلف ہوتی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ پاکستان کے آئین میں بھی ایسا ہی کہا گیا ہے۔عدالت نے مزید کہاکہ یہ تو نہیں ہوسکتا وہ کوئی بیان حلفی بنالے اور کسی مقصد کیلئے اخبار میں استعمال ہوجائے،اس عدالت نےہمیشہ اظہار رائےکی آزادی کی حمایت کی ہے، تاہم لوگوں کو یہ تاثر دیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کمپرومائزڈ ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عام روٹین کا معاملہ نہیں ہے، کیا آپ کہتے ہیں کوئی عدالت کے بارے میں کچھ کہہ دے تو آپ اسے چھاپ سکتے ہیں؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ عدالت کو تنقید سے گھبراہٹ بالکل نہیں ہے، تین سال بعد ایک بیان حلفی دے کر اس کورٹ کی ساکھ پر سوال اٹھایا گیا۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ عدالتوں کا پرابلم یہ ہے کہ ججز پریس کانفرنسز نہیں کرسکتے، پریس ریلیز نہیں دے سکتے۔ہائیکورٹ میں جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر ثاقب بشیر بھی پیش ہوئے۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت نے گزشتہ سماعت پر بھی کہا تھا کہ ہائیکورٹ رپورٹرز انتہائی پروفیشنل ہیں،ایک واقعہ تھا جو عدالت کے نوٹس میں لایا گیا تھا اس سےمتعلق درخواست بھی آگئی ہے، صرف ایک چینل نے غلط رپورٹ کیا۔جنرل سیکرٹری پی ایف یو جے ناصر زیدی نے عدالت میں کہا کہ یہ بیان حلفی سابق چیف جج اورسابق چیف جسٹس پاکستان کے بارے میں ہے، ہم اس کورٹ کا بے پناہ احترام کرتے ہیں، آپ یہ تاثر نہ لیں۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 19 دیکھ کر ہی آگے بڑھیں گے،ابھی ہم نے فرد جرم عائد کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا،یہ اوپن انکوائری ہے اور ہم پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے کہاکہ ہمیں مطمئن کرپائے کہ توہین عدالت نہیں ہوئی تو کیس ڈسچارج کردیں گے۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آپ کی بہت قربانیاں ہیں، عدالت کو آپ کا بہت احترام ہے۔اس موقع پر وکیل لطیف آفریدی نے کہا کہ ہم وکلا کی بھی قربانیاں ہیں، ہم ناراض بھی ہوجاتے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پہلے دن آئے تو آپ کے بارے میں جو باتیں کی تھیں، کیا آپ چاہتے ہیں دوبارہ دہراؤں؟۔وکیل لطیف آفریدی نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی جائے۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اس متعلق کہا کہ اس ہائیکورٹ نے چھٹیوں کا کوئی نوٹی فکیشن نہیں دیا،ہم نے گرمیوں کی چھٹیاں بھی نہیں کی تھیں، اب بھی نہیں کر رہے۔اس موقع پر عدالت نے توہین عدالت کیس کی سماعت28 دسمبر تک ملتوی کردی اور بیان حلفی آئندہ سماعت تک سربمہر ہی رکھنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ اسے اٹارنی جنرل کی موجودگی میں آئندہ سماعت پر کھولا جائے گا۔واضح رہے کہ رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ کو سابق چیف جج رانا شمیم کا اوریجنل بیان حلفی لندن سے گزشتہ ہفتے کوریئر کے ذریعے موصول ہوا ہے جس کے بعد رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ نے کوریئر کے سربمہر لفافے کو ایک اور سیل لگا دی ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں