تازہ ترین

پاک فوج کیخلاف ایک اور گھنائونی مہم ، خوفزدہ عمران خان کی واٹس ایپ گروپس میں بڑ ی سازش پکڑ ی گئی

اسلام آباد(سن نیوز)عمران خان حکومت میں تھے تو پاک فوج کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔پاک فوج کے سپہ سالار تو ان کی پسندیدہ ترین شخصیت تھے۔ عمران خان مختلف انٹرویوز اور تقاریر میں کہتے کہ جنرل باجوہ پاک فوج کی تاریخ کے سب سے زیادہ جمہوریت پسند آرمی چیف ہیں۔ عمران خان نے جنرل باجوہ کو تین سال کی ایکسٹینشن بھی دی کیونکہ جنرل باجوہ کی کمان میں فوج مضبوط ، ملکی دشمن خائف اور پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ بہتر ہوئی تھی ۔ جنرل باجوہ کی حکمت عملی ہی تھی کہ ملک کے اندر اور باہر دشمن کا قلع قمع کیا گیا۔دہشتگردی کو لگام ڈالی گئی جبکہ ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو بھی کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ فوج نے خود کو سیاسی معاملات سے دور رکھا اور تمام تر توجہ دفاع کی مضبوطی پر دی لیکن چونکہ فوج بھی حکومت کا حصہ ہوتی ہے تو فوج نے حکومت کو جہاں ضرورت پڑی بھرپور ساتھ بھی دیا۔ جنرل باجوہ عمران خان کو اپنا باس مانتے تھے اور کئی مواقعوں پر اس کا اظہار بھی کر چکے تھے۔ تاہم پھر ایسا ہوا کہ سیاست کے ایوانوں میں عمران خان کو ہٹانے کی منصوبہ بندی ہوئی ،سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں آئینی طریقے سے عمران خان کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ یہ بحث الگ ہے کہ انوکھا لاڈلہ اقتدار کی کرسی کو اپنا پیدائشی حق سمجھ بیٹھا تھا اور کسی طور پر اقتدار سے علیحدہ نہیں ہونا چاہتا تھا تاہم عمران خان کو آخر جانا ہی پڑا۔اقتدار سے ہٹتے ہی عمران خان نے ملکی اداروں کیخلاف زہرفشانی شروع کر دی ۔ سوشل میڈیا پر عمران خان نے ملکی اداروں خصوصاََ پاک فوج اور آرمی چیف کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی ۔ کردار کشی کی گئی ، جو فوج دن رات ملک و قوم کی خدمت کرتی ہے اسے اپنے چند کی بورڈ وارئیرز کہہ لیں یا گماشتے، ان کے ذریعےسوشل میڈیا پر گالیاں دی گئیں۔ صرف اس لئے کہ فوج نے سیاسی معاملات میں مداخلت کیوں نہیں کی اور نیازی کا اقتدار کیوں نہیں بچایا۔عمران خان نے فوج پر بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر رجیم چینج کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ اسی مہم میں کل انہوں نے رجیم چینج سیمینار بھی منعقد کروایا جس میں اپنے ہی چند سپورٹرصحافیوں جنہیں صحافی کہنابھی صحافت کو گالی دینے کے مترادف ہے ان کے ذریعے تقاریر کروائی گئیں۔عمران خان نے اس سے قبل سوشل میڈیا پر حامی یوٹیوبرزسے ملاقات میں انہیں پاک فوج کیخلاف رجیم چینج کانسپریسی ٹرینڈ بنانے کا ٹاسک دیااور چند ہی گھنٹوں میں واٹس ایپ گروپس میں پاک فوج مخالف مواد شئیر ہونے لگا۔ تحریک انصاف کا مقصد پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی کرنا ہے اور نیا ٹرینڈ چلانے کا مقصد اداروں کو دبائومیں لانا ہے تاکہ اسے دوبارہ اقتدار میں لایا جائے ۔عمران خان اس وقت اقتدار کیلئے نفسیاتی مریض بن چکا ہے جو کہ ملکی سالمیت کیلئے بھی بڑا خطرہ ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں