تازہ ترین

چین سے سی پیک منصوبوں میں رکاوٹیں دور کرنے کی درخواست

اسلام آباد( سن نیوز) پاکستان نے چین سے توانائی اور انفرااسٹرکچر کے 7 منصوبوں کی تکمیل کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی درخواست کی ہے جب کہ ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 12 ارب ڈالر ہے۔صحافیوں کے گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور نے کہا کہ میں نے نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن آف چائنا (این ڈی آر سی) نائب چیئرمین کو دو الگ الگ خطوط لکھے ہیں جن میں ان منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی درخواست کی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میں 6 کا تعلق توانائی اور ایک کا انفرااسٹرکچر ہے۔ انفرااسٹرکچر سے متعلق منصوبہ پاکستان ریلوے کی مین لائن ون اسکیم ہے۔ توانائی کے منصوبوں کی کم از کم تخمینی لاگت 5 ارب ڈالر اور ایم ایل ون اسکیم کی 6.8 ارب ڈالر ہے۔خالد منصور نے کہا کہ ہم نے چین سے کہا کہ ان متفقہ منصوبوں کو ڈیولپمنٹ اسٹیج پر لے جایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھی اپنی جانب سے ان منصوبوں کی راہ میں درپیش ہونے والی رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ گذشتہ 3برسوں سے پی ٹی آئی کی حکومت یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ اس کے دور میں سی پیک پر کام کی رفتار آہستہ نہیں ہوئی۔ایم ایل ون پروجیکٹ کے لیے چین کے ساتھ لون ڈیل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لون ایگریمنٹ فائنل کرنے کے لیے چین کی جانب سے شرائط کی فراہمی کا انتظار کررہا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت نے کراچی تا پشاور، 6.8 ارب ڈالر کی لاگت سے 1733 کلومیٹر طویل ایم ایل ون پروجیکٹ مکمل کرنے کی منظوری دیدی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ چین سے کہا گیا ہے کہ وہ چینی کمپنیوں کو بولیوں کے لیے تیار کرے اور اگر بولیاں 6.8 ارب ڈالر سے اوپر جاتی ہیں تو پھر اس پروجیکٹ کے پی سی ون پر نظرثانی کی جائے گی۔خالد منصور نے مزید کہا کہ ہم چینی اسپانسرز کو پاور پرچیز پیمنٹس میں تاخیر کے منفی اثرات سے گوادر، کروٹ اور کوہالہ پاور پلانٹ سمیت تین دیگر انرجی پروجیکٹس کو بھی بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی یہ یقین دہانیاں مانگ رہے ہیں کہ نئے پاور پلانٹس گردشی قرضوں کی لپیٹ میں نہیں آئیں گے۔معاون خصوصی کہنا تھا کہ پاکستان نے سی پیک کا پہلامرحلہ اچھے طریقے سے مکمل کرلیا ہے۔ اب تک بجلی کی پیداوار میں 5300 میگاواٹ کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں