تازہ ترین

پاک فوج ملکی معیشت پر بوجھ نہیں سہارا ہے

عام تاثر ہے کہ قومی خزانے پر دفاع کا سب سے بڑا بوجھ ہےاور پاک فوج کے اخراجات دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شعبوں کی نسبت فوجی افسران کی تنخواہیں اور مراعات کہیں زیادہ ہیں اور فوج کا کاروبار کرنا معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔دیکھاجائے تو پہلی غلط فہمی تو یہ ہے کہ مسلح افواج بجٹ کا بڑا حصہ لے جاتی ہیں۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مالی سال 23-2022 کا 95 کھرب 2 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔ جس میں دفاع کیلئے 1450 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ رواں سال دفاعی بجٹ قومی بجٹ کا صرف 16 فیصد ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ مالی سال میں دفاعی بجٹ 1370 ارب روپے مختص کیا گیا تھا۔اس حوالے سے دوسری بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ دفاع کے لیے مختص بجٹ کا بڑا حصہ آرمی کو جاتا ہے جبکہ دفاعی بجٹ کی تقسیم کچھ یوں ہے کہ دفاعی بجٹ میں سے آرمی، ائیر فورس، نیوی اور انٹر سروسز کوالگ الگ حصہ دیا جاتا ہے۔ دفاعی بجٹ کے حوالے سے ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ اس میں ہر سال بڑا اضافہ ہوتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ ستر کی دہائی میں دفاعی بجٹ جی ڈی پی کے ساڑے چھ فیصد کے برابر تھا۔جبکہ بیس سال پہلے مالی سال 2001-02 میں یہ جی ڈی پی کے 4.6 فیصد کے برابر تھا اور اب اگلے مالی سال میں اس ضمن میں جی ڈی پی کے 2.86 فیصد کے برابر رقم رکھی گئی ہے۔اس حوالے سے چوتھی غلط فہمی جو پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان ایک بہت بڑی فوج رکھتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ دنیا کہ 64 ممالک ایسے ہیں جن کی پر per capita فوج ہم سے کہیں زیادہ ہے۔پانچویں غلط فہمی جو پاکستانی فوج کے حوالے سے پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اسکے per capita اخراجات دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ پاکستان اس مد میں سب سے کم خرچ کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ اسرائیل اپنی فوج پر per capita دو ہزار ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان صرف 22 ڈالر خرچ کرتا ہے۔دفاعی اخراجات کے حوالےسے چھٹی غلط فہمی یہ ہے کہ فوج کا کاروبار معیشت پر بوجھ ہے۔ فوجی فرٹیلائزر پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے اداروں میں سے ایک ہے۔ اسی طرح فوجی سیمنٹ ہر سال انکم ٹیکس، اییکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مد میں 10 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرواتا ہے۔ ہم دفاع پر اپنے جی ڈی پی کا 2.86 فیصد خرچ کرتے ہیں جبکہ دنیا میں یہ شرح اوسطً 2.18 فیصد ہے۔مگر دنیا میں ایسے کئی ممالک ہیں جو ہماری نسبت اپنے جی ڈی پی کا زیادہ حصہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں مثال کے طور پر سعودی عرب آٹھ فیصد، اسرائیل 5.3 فیصد، روس 3.9 فیصد اور امریکا اپنے جی ڈی پی کا 3.4 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہم دنیا کی چھٹی بڑی فوج رکھتے ہیں مگر ہمارا per soldier خرچہ دنیا کی نسبت کافی کم ہے۔امریکا اپنے ایک فوجی پر تین لاکھ بانوے ہزار ڈالر، سعودی عرب تین لاکھ اکہتر ہزار ڈالر، بھارت بیالیس ہزار ڈالر، ایران تئیس ہزار ڈالر جبکہ پاکستان صرف 12 ہزار ڈالر خرچ کرتا ہے۔ میڈیا دفاعی بجٹ کے حوالے سے غلط معلومات پیش کرتا ہے۔ ملک کے خزانے پر سب سے بڑا بوجھ دفاع کا نہیں بلکہ قرضوں کا ہے جس میں غلط معاشی پالیسیوں کے باعث بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ آرمی میں صرف دس فیصد افسران بریگیڈئیر کے عہدے تک پہنچتے ہیں جو کہ 20 ویں گریڈ کا عہدہ ہے اور یہ شرح سول سروسز کی نسبت بہت کم ہے۔میجر جنرل اور لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں تک یہ شرح مزید کم ہوجاتی ہے۔انکا کہنا تھا کہ منتخب نمائندوں کی مراعات فوجی افسران کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہیں ۔اسی طرح مسلح افواج کے تمام افسران تمام یوٹیلٹی بلز ادا کرتے ہیں کہ جبکہ اعلی عدالتوں کے ججوں کو پٹرول، بجلی اور جوڈیشل الاؤنس پر ٹیکس استثنی حاصل ہوتا ہے۔ مسلح افواج کے تمام افسران انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں جو کہ انکی تنخواہوں سے کٹتا ہے اور اگر انہیں سرکاری رہائش میسر ہو تو اس کا کرایہ بھی تنخواہ سے کاٹ لیا جاتا ہے۔انکا کہنا تھا کہ آرمی ویلفئیر ٹرسٹ ایک کمرشل ادارہ ہے جو کہ اپنے فنڈز خود پیدا کرتا ہے اور حکومتی خزانے میں ٹیکس بھی جمع کرواتا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں